جنت البقیع میں روضوں کا انہدام جرم بھی ہے اور ظلم بھی ۔ مولانا محبوب مہدی عابدی ۔ شکاگو امریکہ
ممبئی: البقیع آرگنائزیشن شکاگو امریکہ کی جانب سے امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے علامہ ذوالقدر رضوی دام ظلہ کی صدارت میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس بر گزار کی گئی ۔
کانفرنس کا آغاز حسب معمول البقیع آرگنائزیشن کے روح رواں مفسر قرآن ، مولانا سید محبوب مہدی عابدی نجفی نے کیا اور پوری عالم انسانیت کو مخاطب کر کے فرمایا کہ انگریزی کیلنڈر کے حساب سے اپریل ٢٠٢٦ میں جنت البقیع میں موجود خوبصورت روضوں کو منہدم کیے ہوئے سو سال ہو جائیں گے ۔
مولانا محبوب مہدی عابدی نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ لوگ کہتے ہیں کہ محمد بن سلمان کے آنے کے بعد سعودی عرب میں آزادی آ گئی ہے ، یہ بات ایک حد تک درست بھی ہے ، ہاں وہاں اس وقت آزادی نظر آرہی ہے لیکن شراب خانوں کی تعمیر کے لیے ، جواخانوں اور کھلے عام فسق و فجور کے مراکز بنانے کے لیے ۔ لیکن جنت البقیع میں تو معصومین کی ٹوٹی ہوئی قبریں آج بھی ظالموں کی قید میں ہیں انہیں قید سے نکالنے کے لیے ہماری تحریک جاری رہے گی ۔
لندن میں مقیم ، بزرگ عالم ، محقق، علامہ سید ذوالقدر رضوی نے اپنی تقریر میں وقت کے ظالموں کے ذریعے ایران اسلامی پر ہوئے بزدلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے فرمایا کہ بقیع آرگنائزیشن جس طرح تعمیر بقیع کے لیے شب و روز کوشاں ہے انشاءاللہ بہت جلد مثبت نتیجہ ظاہر ہوگا اور وہاں خوبصورت روضہ تعمیر ہوگا ۔ آپ نے ملت اسلامیہ کو مخاطب کر کے یہ بھی کہا کہ وہ اس سلسلے میں آگے آئیں اور یہ جان لیں کہ حق سر بلند ہے اور ہمیشہ سر بلند رہے گا ۔
شہر پونا سے مولانا اسلم رضوی نے مولانا محبوب مہدی عابدی کا شکریہ ادا کیا جن کی وجہ سے تحریک تعمیر بقیع روز بروز مضبوط ہوتی جارہی ہے ۔ آپ نے جنت البقیع کی تعمیر کے لیے ممبئی سمیت پوری دنیا میں ہونے والے احتجاج ، سمینار اور ویبینار پر تمام تنظیموں اور شرکا کا شکریہ ادا کیا۔
آپ نے فرمایا کہ اس سال ممبرا (ممبئی) میں آٹھ شوال کو عاشقان محمد و آل محمد نے احتجاجی مظاہرے میں ہزاروں کی تعداد میں شریک ہو کر ایک تاریخ لکھ دی ۔
دھلی سے عصر حاضر کے خطیب عبقری ، مشہور و معروف اسلامی اسکالر ، ہر مذہب و ملت میں مقبول و محبوب مولانا سید کلب رشید نے اپنی جامع و جاذب تقریر میں البقیع آرگنائزیشن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ جنت البقیع کی تحریک اور زیادہ مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہندوستان کے ہر صوبے میں پروگرام رکھا جائے ۔ مولانا کلب رشید نے کہا کہ ہندوستان کے ان علاقوں میں بھی اس سلسلے میں کانفرنس کا انعقاد ہو جو بڑے شہروں سے دور ہیں کیوں کہ یہاں کے لوگ بڑے شہروں کے مقابلے زیادہ مخلص ہوتے ہیں ۔
کویت سے ایک معزز عالم دین ، مبلغ ولایت، ڈاکٹر مرزا عسکری حسین نے اپنی دلکش تقریر میں بقیع کے موضوع پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ برادران اھل سنت کے جو ائمہ اربعہ ہیں انہوں نے قبروں پر گنبد بنانے سے منع نہیں کیا ہے ۔ صرف ابن تیمیہ اور اس کی فکر کو ماننے والے چند افراد ہیں جو قبروں پر گنبد تعمیر کرنے کو نا جائز مانتے ہیں ۔ آپ نے کہا کہ آٹھ شوال کو یوم غم کے ساتھ ساتھ یوم تحریک تعمیر بقیع سے یاد کرنا چاہیے ۔
خواجہ خواجگان ، حضرت معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کی پاکیزہ بارگاہ کے اہم رکن و خادم مولانا سید کامران چشتی نے اپنی بے باک اور عالمانہ تقریر میں تمام مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ جنت البقیع کی تعمیر کا مسئلہ صرف شیعوں کا نہیں ہے بلکہ یہ جتنا شیعوں کا ہے اتنا ہی ہم اھل سنت کا بھی ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ جب آل سعود نے سو سال پہلے بقیع کے روضوں کو منہدم کیا تھا تو شیعوں کے ساتھ پوری دنیا سے اھل سنت کے علما و مشائخ نے آواز بلند کی تھی۔ لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ اس وقت اس تحریک میں شیعہ حضرات بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں ۔
ایس این این چینل کے ایڈیٹر ان چیف مولانا علی عباس وفا کی جد وجہد ، محنت اور کاوشوں سے یہ خوبصورت کانفرنس ایس این این چینل پر براہ راست یو ٹیوب پر نشر کی گئی اور اس وقت اپلوڈ ہو چکی ہے قارئین ایس این این چینل پر جاکر دیکھ سکتے ہیں
