برطانیہ کی پارلیمنٹ میں جنت البقیع کی 100 سالہ یاد میں تاریخی بین المذاہب کانفرنس

دنیا

مولانا محبوب مہدی عابدی و مولانا علی رضا رضوی اور دیگر اسکالر نے بقیع کے لیے تقریر کر کے تاریخ لکھ دی

لندن، برطانیہ : 21 اپریل 1926ء (بمطابق 8 شوال 1344ھ) کو جنت البقیع کے مزاراتِ مقدسہ کو منہدم کر دیا گیا تھا۔ اس تاریخی سانحے کے سو سال مکمل ہونے کے موقع پر 21 اپریل 2026ء کو برطانیہ کی پارلیمنٹ کے ہاؤس آف لارڈز میں ایک اہم اور تاریخی بین المذاہب کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام تھا جو برطانوی پارلیمنٹ میں جنت البقیع کے موضوع پر منعقد ہوا۔


یہ کانفرنس البقیع آرگنائزیشن شکاگو اور الخوئی فاؤنڈیشن لندن کے اشتراک سے ممبر آف پارلیمنٹ Lord Russell Rook کی میزبانی میں منعقد ہوئی، جس میں مختلف مذاہب و ادیان سے تعلق رکھنے والے ممتاز مذہبی رہنماؤں، دانشوروں اور نمائندہ شخصیات نے شرکت کی۔ اس اجتماع نے مقدس ورثے کے تحفظ اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے عزم کو اجاگر کیا۔


اپنے افتتاحی خطاب میں لارڈ روک نے معزز مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ تاریخی اور مذہبی ورثے کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور اس مقصد کے لیے مختلف کمیونٹیز کے درمیان اتحاد اور تعاون ناگزیر ہے۔


البقیع آرگنائزیشن کی نمائندگی کرتے ہوئے مولانا محبوب مہدی عابدی النجفی نے میزبان اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جنت البقیع کی تعمیر نو کا مطالبہ صرف مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ یہ انسانی وقار، تاریخ اور مشترکہ اقدار سے جڑا ہوا ایک عالمی مسئلہ ہے۔
کانفرنس میں شریک مقررین میں مولانا علی رضا رضوی، مولانا شیخ محمد حلی، آرچ بشپ اینجلس، پروفیسر سجاد رضوی (یونیورسٹی آف ایکسیٹر)، ریورنڈ اینڈریو تھامسن، سارا لین کاؤٹی، اور سسٹر عالیہ اعظم (نمائندہ الخوئی فاؤنڈیشن لندن) شامل تھے۔
مقررین نے اپنے خطابات میں دنیا بھر کے تاریخی و مذہبی مقامات کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا، خصوصاً جنت البقیع کی باوقار تعمیر نو کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ اس مسئلے کو ثقافتی ورثے، انسانی حقوق اور عالمی تعاون کے تناظر میں پیش کیا گیا۔
کانفرنس کی نظامت شکاگو سے آئے ہوئے البقیع آرگنائزیشن کے نمائندے جناب کمیل رضوی نے نہایت احسن انداز میں انجام دی۔
یہ تاریخی اجتماع بین المذاہب تعاون، مثبت مکالمے، اور مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے ایک عالمی پلیٹ فارم کے قیام کی تجدیدِ عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔