بھیونڈی میں تعمیر ہوگا شاندار ’’اردو گھر‘‘، ایم ایل اے رئیس شیخ کی پانچ سالہ کوششوں کو کامیابی ملی

بھیونڈی

(سید نقی حسن/پریس ریلیز)

بھیونڈی میں بہت جلد ایک شاندار ’’اردو گھر‘‘ تعمیر ہونے جا رہا ہے۔ سماجوادی پارٹی کے بھیونڈی مشرقی اسمبلی حلقہ کے رکن اسمبلی رئیس شیخ کی مسلسل پانچ سال کی جدوجہد کے بعد اس منصوبے کو منظوری مل گئی ہے۔ ٹھانے کلکٹر نے 2500 مربع میٹر زمین باقاعدہ طور پر اقلیتی ترقیات محکمے کے حوالے کر دی ہے۔

ایم ایل اے رئیس شیخ نے بتایا کہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق، بھیونڈی میں تقریباً 1.25 لاکھ اردو بولنے والے شہری آباد ہیں۔ ریاستی حکومت نے سال 2022 میں ’’اردو گھر‘‘ کے قیام کی اسکیم شروع کی تھی، مگر اس میں بھیونڈی کا نام شامل نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ: بھیونڈی میں سب سے زیادہ اردو بولنے والے ہونے کے باوجود اس علاقے کو نظرانداز کیا جا رہا تھا۔ میں نے اس کے لیے مسلسل کوشش کی، اور آج یہ خواب حقیقت بننے جا رہا ہے۔

چاوِندرے گرام پنچایت علاقہ میں واقع زمین کو اردو گھر کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ پہلے اس زمین پر گروچرن ریزرویشن تھا، جسے ختم کرنے کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔ تحصیلدار بھیونڈی نے اس زمین کا سات بارہ (ملکی ریکارڈ) اقلیتی ترقیات محکمے کے حوالے کر دیا ہے۔ اس عمارت کی تعمیر پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ (PWD) کی نگرانی میں کی جائے گی۔



ایم ایل اے شیخ نے بتایا کہ نائب وزیرِاعلیٰ و وزیرِخزانہ اجیت پوار سے ان کی گفتگو ہوئی ہے، جنہوں نے دیوالی کے بعد اس منصوبے پر میٹنگ بلانے اور ضروری فنڈ فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔

مجوزہ اردو گھر میں ایک بڑا آڈیٹوریم، دو میٹنگ ہال، خواتین کے لیے آرام گاہ، دو بیت الخلا، کتب خانہ، منیجر آفس، اسٹور روم، پارکنگ ایریا اور ریفریشمنٹ کارنر جیسی جدید سہولیات ہوں گی۔

ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ یہ ’’اردو گھر‘‘ بھیونڈی کی ایک نئی ثقافتی پہچان بنے گا اور اردو ادب سے وابستہ لوگوں کے لیے ایک مرکزی مقام ثابت ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا — تھانے ضلع میں ہم نے 22/62 پہلا ڈیجیٹل اسکول قائم کیا تھا، اور اب بھیونڈی کو اردو گھر کی شکل میں دوسری بڑی سوغات دے رہے ہیں۔ یہ لمحہ ہمارے وعدے کی تکمیل کا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔