جنت البقیع کی مظلومیت پوری دنیا تک پہنچنا چاہیے ۔ مولانا محبوب مہدی عابدی
ممبئی: حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے البقیع آرگنائزیشن شکاگو امریکہ کی جانب سے زوم کے ذریعے ایک انٹرنیشنل کانفرنس مولانا کلب جواد نقوی امام جمعہ لکھنو کی صدارت میں برگزار کی گئی۔
کانفرنس کا آغاز کرتے ہوئے شہر پونا مہاراشٹرا سے مولانا اسلم رضوی نے فرمایا کہ جنت البقیع کی تعمیر کے لیے احتجاج ہمارا ایمانی فریضہ ہے ہم اگر محب اہل بیت ہیں تو بقیع میں ٹوٹی ہوئی قبروں پر خوبصورت روضوں کی تعمیر کے لیے ہر اعتبار سے کوشش کرنا چاہیے نتیجے پر ہماری نگاہ نہیں ہونا چاہیے جو لوگ بقیع کے لیے احتجاج کر رہے ہیں وہ یہ جان لیں کہ جب جنت میں بقیع کے مدفونین کے سامنے جائیں گے تو یقینا یہ ہستیاں ہمیں داد و تحسین سے نوازتے ہوئے کہیں گی مرحبا، شاباش تم نے ہماری قبروں پر روضوں کی تعمیر کے لیے کوشش کی تھی تو اس وقت جو ہماری کیفیت ہوگی ، جو خوشی ہوگی اسے الفاظ کے ذریعے بیان نہیں کیا جا سکتا ۔
افتاب شریعت علی جناب مولانا سید کلب جواد نقوی نے جنت البقیع کی تعمیر کے لیے فرمایا کہ بقیع کی تعمیر کے لیے احتجاج ہمارا مذہبی فریضہ ہے ہندوستان کے بزرگ عالم نے اپنی اہم تقریر جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ جنت البقیع کی تعمیر کے لیے تمام مسلمان آگے آئیں کیونکہ یہ مسئلہ صرف مسلمانوں کے ایک مسلک کا نہیں ہے اگر تمام مسلمان متفق ہو کر اس تحریک کا ساتھ دیں تو سعودی حکومت روضہ تعمیر کرنے پر مجبور ہو جائے گی میرے جد امجد مرحوم و مغفور عالی جناب مولانا کلب حسین صاحب طاب ثراہ نے بقیع کی تعمیر کے لیے ہندوستان میں سب سے پہلا احتجاج کیا تھا جو آج بھی جاری و ساری ہے۔
ہندوستان کی راجدھانی دہلی سے جناب ذوالفقار احمد چھمن نے اپنی دلکش تقریر میں فرمایا کہ ہم نے سعودی حکومت کے خلاف بقیع کی تعمیر کے لیے جو احتجاج کیا ہے اس کا اثر مجھ پر یہ ہوا کہ بھارت کی انٹیلیجنس نے مجھے بتایا کہ آپ حج کرنے کے لیے سعودی نہ جائیے چھمن بھائی نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ مجھے حج نہ کرنے کا افسوس ضرور ہے لیکن یہ سوچ کر دل مطمئن بھی ہے کہ ایک مقدس تحریک کا میں بھی حصہ ہوں اور اس کی سزا مجھے اس طرح سے دی جا رہی ہے۔
عروس البلاد ممبئی سے ایک محترم شخصیت جناب سید فخر الحسن رضوی نے فرمایا کہ افسوس اس بات کا ہے کہ بہت سے لوگ جو محبت اہل بیت ع کا دم بھرتے ہیں اج بھی بقیع کی تحریک سے دور ہیں جنت البقیع کے لیے ہماری تحریک سالوں سے شروع ہے اور جب تک وہاں روضہ تعمیر نہیں ہوگا ہماری تحریک اسی طرح سے جاری رہے گی ہمیں سعودی حکومت روضہ تعمیر کرنے کی صرف اجازت دے دے ہمیں سعودی کے نجس پیسوں کی ضرورت نہیں ہے ہم اپنے پاکیزہ پیسوں سے روضوں کی تعمیر خود کریں گے۔
شہر حیدراباد دکن سے جنت البقیع کی تحریک سے جڑے ہوئے ایک فعال رکن جناب رضا علی سہیل نے مختصر تقریر میں ان لوگوں کے لیے دعائیں کیں جو اس تحریک سے جڑے ہوئے ہیں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ البقیع آرگنائزیشن کی جانب سے اس سال پوسٹل اسٹیمپ بھی جاری کیا گیا جو ایک نہایت اہم کام ہے آپ نے بقیع کے سلسلے میں دو اشعار بھی پڑھے ۔
ہمارے حال پر نظر کرم سرکار فرمائیں :- کہیں ایسا نہ ہو دل میں تمنا لے کے مر جائیں :- اسی امید پر تھامے ہوئے ہیں آس کی ڈوری :- بقیع تعمیر ہو اور اس کے ہم مزدور کہلائیں۔
بقیع آرگنائزیشن کے ایک فعال اور نہایت ہی مخلص رکن جناب سید سلمان رضوی نے ا اپنی مختصر تقریر میں بقیع آرگنائزیشن کی تحریک کا ذکر کیا اور اس کے اغراض و مقاصد کو بیان کیا خاص کر ایس این این چینل کا شکریہ ادا کیا جو مسلسل اس تحریک کو آگے بڑھا رہا ہے۔
امریکہ شکاگو سے البقیع آرگنائزیشن کے کوارڈینیٹر اور فعال رکن جناب شہریار رضوی نے اس تحریک کے سلسلے میں نہایت ہی مفید باتیں بیان کیں اور فرمایا کہ بقیع کی تعمیر کے لیے جو تحریک جاری ہے اس کے تقریبا 18 پروجیکٹ ہیں ، احتجاج ان میں سے صرف ایک پروجیکٹ ہے ان اٹھارہ پروجیکٹ میں صرف ایک پروجیکٹ کی طرف مومنین کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ وادی السلام میں ایک جگہ ہے جو امام صادق علیہ السلام اور امام زمانہ علیہ السلام سے منسوب ہے وہاں ہمارا ارادہ ہے کہ جنت البقیع کے روضے کی ایک شبیہ بنائی جائے اس پروجیکٹ میں دنیا کے تمام مومنین مالی امداد کر کے شرکت کر سکتے ہیں۔
البقیع آرگنائزیشن کے روح رواں، مفسر قران کریم عالی جناب مولانا سید محبوب مہدی عابدی نجفی نے تمام مقررین و ناظرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ جنت البقیع کی مظلومیت پوری دنیا تک پہنچنا چاہیے آپ نے فرمایا کہ بقیع کی تحریک کو ہمیں اس طرح عام کرنا چاہیے کہ گاؤں گاؤں ، قریہ قریہ ، شہر شہر یہ تحریک پہنچ جائے اگرچہ اس سلسلے میں کافی کام ہوا ہے لیکن ہمیں اس سے زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے آپ نے اظہار افسوس کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ بقیع کے روضوں کے انہدام کو سو سال مکمل ہو گئے ہیں لیکن ابھی تک روضوں کی تعمیر نہیں ہو سکی ہے۔
ایس این این چینل کے ایڈیٹر ان چیف مولانا علی عباس وفا نے حسب دستور قدیم اس کانفرنس کی نظامت کی بالاخر یہ نہایت ہی کامیاب کانفرنس اختتام تک پہنچی۔
اخر میں یہ بھی بیان کر دوں کہ اج کی اس کانفرنس کی یہ خاص بات تھی کہ جو لوگ جنت البقیع کے لیے مسلسل تحریک کو جاری رکھے ہوئے ہیں ان کے سربراہوں کو اس کانفرنس میں شامل کیا گیا ہے۔
