بھیونڈی: اسمارٹ میٹر کی لازمی تنصیب کے خلاف آیٹک کا احتجاج، وزیرِ اعلیٰ کے نام یادداشت روانہ

بھیونڈی

بھیونڈی : ٹورنٹ پاور کی جانب سے اسمارٹ میٹر کی تنصیب کو لازمی قرار دینے کے خلاف اور مختلف مزدور مطالبات کے حق میں منگل کو آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس (آیٹک) نے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کی قیادت میں بھیونڈی کے پرانت دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں مزدور کلیان ناکہ سے ریلی کی صورت میں روانہ ہوئے اور پرانت دفتر پہنچ کر اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ صارفین کو اسمارٹ میٹر قبول کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جبکہ اس سے آئندہ بجلی کے بلوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ جب ریاستی حکومت کی جانب سے اسمارٹ میٹر کو لازمی نہ بنانے کی بات کہی جا چکی ہے تو پھر اس پر زبردستی عمل درآمد کیوں کیا جا رہا ہے۔

پرانت افسر کی غیر موجودگی کے باعث احتجاجی وفد نے تحصیلدار بھیونڈی کے ذریعے وزیرِ اعلیٰ کے نام مطالباتی یادداشت جمع کرائی۔ یادداشت میں تعمیراتی مزدوروں کے لیے ماہانہ 10 ہزار روپے پنشن، سرکاری اسکیموں کے تحت اشیائے ضروریہ کے بجائے براہِ راست نقد امداد، ریاست میں کم از کم 26 ہزار روپے ماہانہ اجرت، منشیات کے کاروبار کے خلاف سخت کارروائی، اور بھیونڈی و شاہاپور میں خدمات انجام دینے والے سی آر پی اہلکاروں کا اعزازیہ 3 ہزار سے بڑھا کر 6 ہزار روپے ماہانہ کرنے کا مطالبہ شامل تھا۔

احتجاج کے دوران مقررین نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ جنوری 2027 میں ٹورنٹ پاور کا معاہدہ ختم ہونے کے بعد اس کی کارکردگی کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے اور بجلی کی تقسیم کے لیے دیگر کمپنیوں کو بھی موقع دیا جائے۔ آیٹک رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے مطالبات پر جلد فیصلہ نہ کیا تو ریاست گیر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔