اب وقت آگیا ہے کہ سب لوگ مل کر جنت البقیع کی تحریک میں شامل ہوں۔ مولانا اسلم رضوی
ممبئی: حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور امام حسن علیہ السلام کی وفات و شہادت کی مناسبت سے البقیع آرگنائزیشن شکاگو امریکہ کی جانب سے ایک انٹرنیشنل کانفرنس مفسر قرآن علامہ محبوب مہدی عابدی نجفی کی صدارت میں برگزار کی گئی۔
البقیع آرگنائزیشن کے روح رواں عالی جناب مولانا محبوب مہدی عابدی نجفی نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امام حسن علیہ السّلام کی شہادت کی مناسبت سے تمام عالم اسلام کی خدمت میں تسلیت پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ میں اس وقت کربلا میں ہوں جہاں ایک نعرہ عام طور سے لگایا جا رہا ہے "واللہ یا زہرا ما ننسی حسینا” اے فاطمہ زہرا خدا کی قسم ہم اپ کے حسین کو کبھی بھی فراموش نہیں کر سکتے یہ حقیقت بھی ہے کہ ہر محب اہل بیت کبھی بھی امام حسین کو فراموش نہیں کر سکتا کربلائے معلی میں جب امام حسین کا خوبصورت حرم اور روضہ نگاہوں کے سامنے آتا ہے تو بہت ہی سکون ملتا ہے لیکن ذہن میں یہ بات بھی آتی ہے کہ آپ ہی کے بڑے بھائی کا روضہ جنت البقیع میں کس طرح سے منہدم کر دیا گیا کہ وہاں ایک چھوٹا سا چراغ بھی نہیں جل رہا ہے یہ ایک ایسا ظلم ہے امام حسن اور مدفونین بقیع پر جو بنی امیہ کے وارثوں نے کیا ہے اس لیے ضروری ہے کہ تمام لوگ اس تحریک سے جڑیں اور فریاد بلند کریں انشاءاللہ بہت جلد جنت البقیع میں ایک خوبصورت روضہ تعمیر ہوگا۔
اہل سنت والجماعت کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک محترم عالم دین محب اہل بیت چشتی سلسلے کی ایک معتبر شخصیت مولانا محمد معین الدین چشتی نے فرمایا کہ افسوس ہے کہ ان لوگوں کی قبروں کو منہدم کر دیا گیا جنہوں نے انسانیت اور اسلام کے لیے خدمت کی تھی ، امام اعظم حضرت ابو حنیفہ خود امام صادق کے شاگرد ہیں لیکن بقیع میں دشمنوں نے امام ابو حنیفہ کے استاد کے روضے کو بھی منہدم کر دیا ہم اس اہم انٹرنیشنل کانفرنس کے ذریعے اھلبیت رسول کے منہدم روضوں کی تعمیر کا مطالبہ کرتے ہیں اور بقیع کے لیے جہاں جہاں بھی آواز بلند ہو رہی ہے ہم اپنی حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔
آیت اللہ العظمی شیخ محمد یعقوبی حفظہ اللہ تعالی کے ہندوستان میں نمائندے ، عالی جناب مولانا مرزا عابد علی صاحب نے بہترین تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ امام حسن علیہ السّلام نے کل بھی منافقین کے چہرے سے پردہ ہٹایا تھا اور آج بھی ان کا منہدم روضہ منافقین کے چہرے سے پردہ ہٹا رہا ہے امام حسن علیہ السلام، قران کے اعتبار سے رسول اللہ کے بیٹے ہیں تو اب میرا سوال یہ ہے کہ کوئی باپ سے محبت کرے اور بیٹے سے دشمنی کرے یہ کیسے ممکن ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ جب جنت البقیع میں روضہ تعمیر ہوگا تو وہاں دعائیں ہوں گی اللہ کی عبادت ہوگی۔
شہر لکھنؤ سے بزرگ اور محترم عالم دین مولانا مرزا جعفر عباس نے بہترین پیغام دیتے ہوئے فرمایا کہ نواسہ رسول کو قتل کرنے والے سب ظاہری طور پر مسلمان تھے جب ہم یہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے امام حسین کو قتل کیا تو کچھ لوگ سوال کرتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ مسلمان، رسول کے نواسے کی قبر منہدم کرے اس کا جواب یہ ہے کہ جنت البقیع مدینے میں ہے اور وہاں کا حاکم بھی مسلمان ہے اور اسی نے جنت البقیع کو منہدم کیا ہے اس لیے کوئی یہ تعجب نہ کرے کہ امام حسین کو مسلمان کیسے قتل کر سکتا ہے اگر اہل بیت کے روضوں کو مسلمان گرا سکتا ہے تو یہی مسلمان اہل بیت علیہم السلام کو شہید بھی کر سکتا ہے۔
ہندوستان میں البقیع آرگنائزیشن شکاگو امریکہ کے ایک فعال اور اہم رکن جناب محمد رضا عابدی نجفی نے فرمایا کہ آج سے چند سال پہلے جنت البقیع کی مظلومیت کے بارے میں بہت کم لوگ واقف تھے لیکن الحمدللہ جب سے البقیع آرگنائزیشن نے مولانا محبوب مہدی عابدی کی سرپرستی میں عالمی پیمانے پر اور ہندوستان میں مولانا اسلم رضوی اور مولانا علی عباس وفا کی کوششوں نے اس تحریک کو گھر گھر پہنچا دیا ہے۔
دہلی سے ایک مشہور و معروف شخصیت امام حسین کے شیدائی جناب پنڈت وجے کمار شرما جو کسی بھی تعارف کے محتاج نہیں ہیں انہوں نے بہت ہی جاذب و دلکش تقریر کی اور فرمایا کہ میں ایک ہندو ہو کر آج یہ اعلان کر رہا ہوں کہ جنت البقیع میں جو روزہ منہدم کیا گیا تھا اسے دوبارہ تعمیر کرنا چاہیے یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ مولا علی کی زوجہ کی قبر منہدم ہو اور سعودی حکومت اسے تعمیر نہ کرے ۔ ان کے پاس اربوں کھربوں میں اسلحہ خریدنے کے لیے پیسہ ہے لیکن رسول کے گھر والوں کی قبر جو منہدم ہے اسے بنانے کے لیے کوئی پیسہ نہیں ہے یہ تحریک جو جنت البقیع کے لیے ہر طرف سے اٹھی ہے ہم دل سے اس کی حمایت کرتے ہیں اور آخر تک ہم اس تحریک سے اپنی وابستگی کا اعلان کرتے ہیں۔
البقیع آرگنائزیشن کے ایک اہم رکن مولانا اسلم رضوی نے شہر پونہ سے اپنی تقریر میں یہ اعلان کیا کہ جنت البقیع کا مسئلہ اب کسی ایک ملک تک محدود نہیں ہے بلکہ جہاں جہاں بھی انصاف پسند لوگ ہیں وہ اس کی تعمیر کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ اب دنیا کا جو نظام ہے وہ تبدیل ہو رہا ہے اب حالات مومنین کے لیے بہتر ہو رہے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ مستقبل قریب میں وہ لوگ جو اہل بیت کی دشمنی میں آگے تھے اب انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑے گا اور انشاء اللہ ایک خوبصورت روضہ تعمیر ہوگا ۔
ایام عزا کی مناسبت سے مشہور مداح اہل بیت بہترین ترنم کے مالک جناب ساحل عارفی نے بارگاہ عصمت و طہارت میں منظوم نذرانہ عقیدت پیش کیا اور ناظرین کو ماجور و مثاب کیا۔
مولانا علی عباس وفا ایڈیٹر ان چیف ایس این این چینل کی سربراہی میں اور ایس این این چینل کے ایڈیٹر جناب کاشف صاحب کی دیکھ ریکھ میں یہ کامیاب کانفرنس مذکورہ چینل پر براہ راست نشر کی گئی۔
